خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی عدلیہ کی آن لائن ویب سائٹ ’میزان‘ نے بتایا کہ عرفان شکورزادہ کو امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔
ویب سائٹ نے یہ نہیں بتایا کہ اسے کب گرفتار کیا گیا یا کب پھانسی دی گئی، تاہم کہا گیا ہے کہ وہ ایران میں سیٹلائٹ کے شعبے میں سرگرم ایک سائنسی تنظیم میں کام کرتا تھا۔
یاد رہے کہ ایران کو طویل عرصے سے مغربی ممالک کی جانب سے یہ الزامات درپیش ہیں کہ اس کا سیٹلائٹ پروگرام بیلسٹک میزائل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
میزان کے مطابق شکورزادہ نے سی آئی اے اور موساد کو دانستہ اور اپنی مرضی سے خفیہ معلومات فراہم کیں۔
دوسری جانب ناروے میں قائم گروپ ایران ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ نے گذشتہ سال کم از کم 1500 افراد کو پھانسی دی جو تمام دنیا میں ایک سب سے زیادہ تعداد ہے۔






