غیرملكی نشریاتی ادارے الجزیرہ كے مطابق امریكی صدر نے كہا ہے كہ ابتدائی طور پر ایران نے آٹھ بڑے تیل بردار جہازوں کو گزرنے دیا، جس کے بعد مزید دو ٹینکرز کو بھی اجازت دی گئی، ان جہازوں میں کچھ پاکستانی پرچم بردار ٹینکرز بھی شامل تھے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران ایران کی روایتی عسکری طاقت عملاً تباہ ہو چکی ہے، ایران اب نہ صرف بحریہ سے محروم ہے بلکہ وہ پہلے کی طرح حملہ کرنے کی صلاحیت بھی کھو چکا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ یہ کوئی طویل جنگ نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن مہم ہے، جس کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے اہداف کے حصول میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ایران کے پاس اب نہ مؤثر بحریہ ہے، نہ قیادت، جب کہ اس کا فضائی دفاعی نظام بھی تقریباً ناکارہ ہو چکا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کا خیرمقدم کریں گے اور جنگ کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق جنگ دراصل مذاکرات کا ایک اور طریقہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے محدود تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا ممکنہ طور پر سفارتی اشارہ ہو سکتا ہے، تاہم دونوں جانب سے سخت بیانات کے باعث صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے اور اس میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔







