صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ کارروائی کی جاتی تو دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ سب سے بڑا فوجی حملہ ثابت ہو سکتا تھا، تاہم خطے کے اہم ممالک کی اپیل کے بعد طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح جنگ نہیں بلکہ معاہدہ ہے، کیونکہ وہ انسانی جانوں کے ضیاع سے گریز کرنا چاہتے ہیں، مشرقِ وسطیٰ کے متعدد اتحادی بھی فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ باضابطہ مذاکرات آج دوپہر سے شروع ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے ایک متفقہ مذاکراتی فریم ورک کے تحت جاری ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایک معاہدہ موجود ہے، جبکہ ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے حوالے سے بھی پیش رفت کی توقع ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں، تاہم اگر بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔







