غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ حملے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی تھیں اور وہ فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹے کی دوری پر تھے، لیکن بعض اتحادی ممالک کے رہنماؤں نے رابطہ کرکے مزید وقت دینے کی اپیل کی جس کے بعد کارروائی روک دی گئی۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اگر حملہ ہوجاتا تو امریکا اور ایران کے درمیان جاری غیر یقینی جنگ بندی عملی طور پر ختم ہوجاتی، ہم مکمل طور پر تیار تھے، سب کچھ طے ہوچکا تھا، اور کارروائی کسی بھی وقت شروع ہوسکتی تھی۔

امریکی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے چند بااثر رہنماؤں نے انہیں یقین دلایا کہ ایران مذاکرات میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کررہا ہے، اس لیے اسے مزید دو سے تین دن کا وقت دیا جانا چاہیے۔ ٹرمپ کے مطابق انہی درخواستوں کے بعد انہوں نے حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بھی عندیہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف مجوزہ کارروائی وقتی طور پر روک دی گئی ہے کیونکہ سفارتی کوششیں ابھی جاری ہیں، اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا سخت فیصلے لینے سے گریز نہیں کرے گا۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن تہران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، ایران کے پاس مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے محدود وقت باقی ہے اور اگلے چند روز اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا میں ہونے والے حالیہ عوامی سرویز کے مطابق ایران سے متعلق جنگی پالیسی پر امریکی عوام کی رائے منقسم ہے۔ ایک حالیہ سروے میں صرف 31 فیصد امریکی ووٹرز نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کی، جبکہ اکثریت نے ممکنہ جنگی کارروائی کی مخالفت کی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب امریکی عوام کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ایران کے جوہری عزائم عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں تو لوگ کارروائی کی حمایت کرتے ہیں۔  امریکا کے مفاد اور عالمی امن کے لیے ضروری اقدامات کرنا میری ذمہ داری ہے۔”

مزید پڑھیں: تہران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے وقت محدود ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

دوسری جانب امریکی اخبار “وال اسٹریٹ جرنل” کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کے بعض حکام کو بھی کسی فوری امریکی حملے کے منصوبے سے متعلق مکمل آگاہی نہیں تھی،ممکنہ طور پر امریکا نے اس منصوبے کو انتہائی خفیہ رکھا تاکہ ایران کو پیشگی معلومات نہ مل سکیں۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اس دوران انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہے، جس سے سیاسی حلقوں میں مزید سوالات نے جنم لیا کہ آیا واقعی فوری کارروائی زیر غور تھی یا یہ دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی تھی۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کئی ہفتوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان غیر اعلانیہ جنگ بندی برقرار ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں اثر و رسوخ اور خطے میں عسکری موجودگی کے معاملے پر تناؤ بدستور موجود ہے۔ آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی کئی مرتبہ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں، تاہم متعدد مواقع پر وہ فوجی کارروائی کے اعلان یا دھمکی کے بعد سفارتی راستہ اختیار کرتے دکھائی دیے۔