اماراتی وزیرِ مملکت برائے بین الاقوامی تعاون، ریم الہاشمی نے پریس بریفنگ کے دوران دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے فراہم نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہے، تاہم امارات کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی کا فوجی حل ممکن نہیں، کیونکہ کسی بھی قسم کی جنگی کارروائی پورے خطے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ریم الہاشمی نے مزید بتایا کہ ایرانی حملوں کے تناظر میں تہران میں قائم اماراتی سفارت خانہ بند کر دیا گیا ہے اور سفیر کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
#فيديو | خلال الإحاطة الإعلامية لحكومة الإمارات.. ريم الهاشمي: أي مساس بسيادة دولة الإمارات أو أي دولة خليجية لن يُترك دون ردhttps://t.co/h8H7aD05SJ#صحيفة_الخليج pic.twitter.com/Jf2p99Ie4u
— صحيفة الخليج (@alkhaleej) March 3, 2026
دوسری جانب ابوظبی میں اماراتی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر ریاست ہائے متحدہ عرب امارات حالتِ جنگ میں ہے۔
ترجمان وزارتِ دفاع کے مطابق اماراتی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور ملکی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔






