ہفتے کے روز جاری بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ ٹرمپ امریکا کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔ ان کے مطابق یہ اقدام “عزم کے لبادے میں لپٹی لاپرواہی” ہے جو نہ صرف امریکی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتیں اور موجودہ پالیسی کو ایک “انتخابی جنگ” کی طرف قدم قرار دیا جس کا بوجھ امریکی فوجیوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر کسی بھی بڑے فوجی اقدام سے قبل کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔
کملا ہیرس نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کے جوہری پروگرام کے خطرات سے آگاہ رہنا چاہیے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جانا چاہیے، تاہم ان کے مطابق موجودہ عسکری راستہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔
انہوں نے امریکی فوجیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ سازی میں ذمہ داری اور توازن ضروری ہے تاکہ فوج، اتحادیوں اور عام شہریوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔






