وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا عرب اور اسرائیلی حکام نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا ہے؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے اپنے آپ کو قائل کیا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ دنوں ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، اور اس پیش رفت کا بہت بڑا اثر پڑا ہے۔

بعد ازاں اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ جن افراد کو پھانسیاں دی جانی تھیں، اب ایرانی قیادت انہیں پھانسی نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا یہ اقدام قابلِ تعریف ہے۔

گزشتہ روز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کے روز ٹرمپ سے بات کی۔ اسی روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع سے معلومات ملی ہیں کہ ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔

اس سے قبل برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحے تبدیل کیا۔ 

اخبار کے مطابق اس فیصلے میں تبدیلی خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کے باعث ہوئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر آمادہ کیا، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ تہران کو اپنے اچھے عمل کا موقع دیا جانا چاہیے۔