وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا عرب اور اسرائیلی حکام نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا ہے؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے اپنے آپ کو قائل کیا۔
Trump: "Nobody convinced me - I convinced myself." He says he decided against striking Iran after Iran had scheduled over 800 hangings and then cancelled them. pic.twitter.com/RkIHgiufR2
— News Now (@NewsNowUS) January 16, 2026
ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ دنوں ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، اور اس پیش رفت کا بہت بڑا اثر پڑا ہے۔
بعد ازاں اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ جن افراد کو پھانسیاں دی جانی تھیں، اب ایرانی قیادت انہیں پھانسی نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا یہ اقدام قابلِ تعریف ہے۔
گزشتہ روز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کے روز ٹرمپ سے بات کی۔ اسی روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع سے معلومات ملی ہیں کہ ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔
NEW: The New York Times reports Netanyahu asked Trump to delay any US strike on Iran, citing concerns Israel is unprepared for an Iranian response. pic.twitter.com/AtvMV61740
— Intel Net (@IntelNet) January 15, 2026
اس سے قبل برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحے تبدیل کیا۔
اخبار کے مطابق اس فیصلے میں تبدیلی خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کے باعث ہوئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر آمادہ کیا، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ تہران کو اپنے اچھے عمل کا موقع دیا جانا چاہیے۔







