رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی رہبرِ اعلیٰ اور دیگر اہم حکام کو نشانہ بنانے کے بعد بھی حکومتی ڈھانچے میں کسی بڑے خلل کی اطلاع نہیں ملی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران میں حکومتی نظام اداروں پر مشتمل ہے، جہاں مختلف ریاستی اور عسکری ادارے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہتے ہیں، جس کے باعث کسی ایک شخصیت کے نہ ہونے سے نظام مکمل طور پر متاثر نہیں ہوتا۔

دوسری جانب لیبیا میں 2011 میں سابق رہنما معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد ریاستی نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا تھا اور حکومتی ڈھانچہ کمزور پڑ گیا تھا۔

ایران میں حکومتی ادارے فعال ہیں جبکہ عوامی سطح پر بھی ریاستی بیانیہ برقرار ہے، جس کے باعث ملک کا نظام چلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔