فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے اور سوال اٹھایا کہ جب روایتی ہتھیاروں کے ذریعے ہی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں تو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت کیوں پیش آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ ایران ایسا ملک بنے جو جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو اور خطے یا امریکہ کے لیے خطرہ نہ بنے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے 7 اپریل کو ایران کے حوالے سے سخت بیان دیا تھا، تاہم بعد ازاں چند ہی گھنٹوں میں جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی گئی، جس میں بعد میں توسیع بھی کی گئی۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جنگ کے دوران خبردار کیا تھا کہ امریکہ ایران کو ایسے ہتھیاروں سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو پہلے استعمال نہیں کیے گئے، تاہم وائٹ ہاؤس نے بعد میں وضاحت کی کہ اس بیان سے جوہری حملے کی دھمکی مراد نہیں تھی۔
ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کا بھی کہنا ہے کہ جنگ سے قبل ایران کی جانب سے ایٹم بم بنانے کے شواہد سامنے نہیں آئے تھے۔
واضح رہے کہ دنیا میں اب تک صرف امریکہ ہی وہ ملک ہے جس نے جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کیے، جب دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے تھے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔







