امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کے ففٹی ففٹی امکانات ہیں کہ یا تو وہ ایک اچھا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل پر بات چیت کی جا سکے، جب کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی اس ملاقات میں شرکت متوقع ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں دو میں سے ایک چیز ہوگی، یا تو میں انہیں پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے نشانہ بناؤں گا یا ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ کچھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں ہیں، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات پر فکرمند ہیں کہ وہ کوئی ناموافق معاہدہ کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ صرف ایسا معاہدہ قبول کریں گے جس میں یورینیم کی افزودگی اور ایران کے موجودہ یورینیم ذخائر جیسے معاملات شامل ہوں۔

ویب سائٹ کے مطابق ان امور کا تفصیلی حل اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ممکن نظر نہیں آتا جس پر امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے تحت دونوں ممالک جنگ کے خاتمے پر اتفاق کریں گے اور مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے 30 دن کی مدت طے کریں گے۔