چین کے دورے سے واپسی پر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے واقعی دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی۔ میں خود اس کے حق میں نہیں تھا، مگر ہم نے یہ پاکستان کے لیے ایک ’فیور‘ کے طور پر کیا۔

انہوں نے پاکستانی قیادت کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار لوگ ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ایران کی تجاویز دیکھی ہیں اور وہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال تک جوہری پروگرام کی معطلی ایک اچھی تجویز ہے، مگر یورینیم کی افزودگی کی سطح سے متعلق دی گئی ضمانت اطمینان بخش نہیں۔

آبنائے ہرمز سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے چینی صدر سے کسی فیور کا مطالبہ نہیں کیا، ہمیں کسی فیور کی ضرورت نہیں ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات کو نفسیاتی حربے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی دفاعی طاقت برقرار ہے۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور قطر نے پسِ پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔