چین کے دورے سے واپسی پر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے واقعی دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی۔ میں خود اس کے حق میں نہیں تھا، مگر ہم نے یہ پاکستان کے لیے ایک ’فیور‘ کے طور پر کیا۔
انہوں نے پاکستانی قیادت کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار لوگ ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ایران کی تجاویز دیکھی ہیں اور وہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال تک جوہری پروگرام کی معطلی ایک اچھی تجویز ہے، مگر یورینیم کی افزودگی کی سطح سے متعلق دی گئی ضمانت اطمینان بخش نہیں۔
Trump on Iran:
— Clash Report (@clashreport) May 15, 2026
We really did the ceasefire at the request of other nations.
I wouldn t have really been in favor of it, but we did it as a favor to Pakistan — terrific people, the field marshal and the prime minister. pic.twitter.com/Bsa3AqpcNl
آبنائے ہرمز سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے چینی صدر سے کسی فیور کا مطالبہ نہیں کیا، ہمیں کسی فیور کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات کو نفسیاتی حربے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی دفاعی طاقت برقرار ہے۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور قطر نے پسِ پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔






