فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک نیا مذاکراتی فریم ورک بھجوایا ہے جس میں پہلے کے مقابلے میں مزید سخت شرائط شامل کی گئی ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کن نکات میں تبدیلی کی گئی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ان کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے مکمل طور پر روکا جائے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے۔

انہوں نے اپنی بہو لارا ٹرمپ کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’مجھے صرف ایک ضمانت درکار تھی کہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے جائیں گے، اور انہوں نے اس پر اتفاق کیا ہے، جو کافی دلچسپ بات ہے۔‘‘

تاہم تہران اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ کے دعوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار کر چکا ہے، جبکہ دونوں فریق کئی اہم معاملات پر ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا، تاہم مذاکرات کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔

اجلاس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران سے متعلق ’’حتمی فیصلے‘‘ کی تیاری کر رہے ہیں، لیکن تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد ایک انتظامی اہلکار نے بتایا کہ نشست بغیر کسی فیصلے کے اختتام پذیر ہوئی۔

اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ صرف اسی معاہدے پر دستخط کریں گے جو ان کی مقرر کردہ سرخ لکیروں پر پورا اترے اور ایران کے جوہری عزائم کو مؤثر طور پر روک سکے۔

دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر پیش رفت سے قبل وہ اپنے تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کی بحالی چاہتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تباہ کرنے سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیانات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا ہے۔ یہی وہ ذخائر ہیں جن کے بارے میں مغربی ممالک خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ انہیں جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایران نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ لبنان کو کسی بھی جنگ بندی یا امن معاہدے میں شامل کیا جائے، جہاں اسرائیل کی جانب سے حملے جاری ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے خلاف کی جا رہی ہیں۔

اپنے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کا اشارہ بھی دیا۔

انہوں نے کہا، ’’مجھے کوئی جلدی نہیں۔ ہم آہستہ مگر یقینی انداز میں اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں۔ اگر ہم انہیں حاصل نہ کر سکے تو پھر ہم اسے کسی اور طریقے سے انجام تک پہنچائیں گے۔‘‘

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی شرائط کے باعث فریقین کے درمیان کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے، جس سے یہ فیصلہ بھی مؤخر ہو سکتا ہے کہ جنگ مکمل طور پر ختم ہوگی یا خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی۔

واضح رہے کہ تیل کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بند کر دی گئی تھی اور تاحال بحال نہیں ہو سکی، جبکہ امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ برقرار ہے۔