اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سابق امریکی صدر براک اوباما کا ایران کے ساتھ معاہدہ ایسا راستہ تھا جو بالآخر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی جانب لے جاتا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر وہ معاہدہ برقرار رہتا تو ایران چھ سال قبل ہی جوہری ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کا ایران کے ساتھ معاہدہ اس کے برعکس ہے اور یہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہوگا۔
ان کے مطابق ایران نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کر سکے گا، چاہے وہ انہیں خریدنے کی کوشش کرے یا کسی اور ذریعے سے حاصل کرنا چاہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدہ کل دستخط کے لیے تیار ہے اور جیسے ہی اس پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
BREAKING: Deal with Iran scheduled to be signed tomorrow, Trump says on Truth Social
— Sky News (@SkyNews) June 13, 2026
However, Iran has claimed that while the signing could happen in the coming days, it would not be taking place tomorrowhttps://t.co/2fQtDXXt1w
📺 Sky 501, Virgin 602, Freeview 233 and YouTube pic.twitter.com/Z5ewTSfgm0
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ موجودہ تعلقات سابق امریکی انتظامیہ کے دور کے مقابلے میں مختلف اور بہتر ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے میں کسی قسم کی مالی ادائیگی یا رقم کا تبادلہ شامل نہیں ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب خطے میں حالات مکمل طور پر معمول پر آ جائیں گے تو مناسب وقت پر باقی ماندہ جوہری مواد حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایران اور پورے مشرق وسطیٰ کے ساتھ مستقبل میں مثبت اور طویل المدتی تعاون جاری رہے گا۔ ان کے بقول امید ہے کہ یہ عمل جلد اور آسانی سے مکمل ہو جائے گا، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا کے پاس دیگر متبادل بھی موجود ہیں، جنہیں وہ دوبارہ استعمال نہیں کرنا چاہتے۔






