ابتدائی طور پر یہ اجلاس صدارتی رہائش گاہ کیمپ ڈیوڈ میں منعقد ہونا تھا، تاہم بعد ازاں خراب موسمی حالات کے باعث اجلاس کا مقام تبدیل کرکے وائٹ ہاؤس مقرر کردیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ متوقع خراب موسم کے پیشِ نظر کابینہ اجلاس اب وائٹ ہاؤس میں ہوگا جبکہ کیمپ ڈیوڈ کا طے شدہ دورہ مؤخر کردیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اجلاس میں امریکی کابینہ کے تمام اہم ارکان شریک ہوں گے جبکہ سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ بھی اجلاس میں شرکت کریں گی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات، مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال، امریکی معیشت، چھوٹے کاروباروں کی کارکردگی، داخلی سلامتی اور دھوکہ دہی کے خاتمے کے لیے قائم خصوصی ٹاسک فورس کی پیشرفت سمیت کئی اہم امور زیرِ غور آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کو انتہائی حساس مرحلہ قرار دے رہی ہے، اسی لیے اس اجلاس کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات میں پیشرفت ہوتی ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ چاہتا ہے، اگر بہتر شرائط پر اتفاق نہ ہوا تو امریکا کسی کمزور معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات کو منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھا رہا ہے، تاہم امریکی مفادات اور خطے کے استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران سے ممکنہ معاہدے میں چند روز لگ سکتے ہیں جبکہ قطر میں سفارتی رابطے اور مذاکراتی عمل جاری ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ واضح پالیسی رکھتے ہیں کہ یا تو امریکا ایک اچھا اور قابلِ قبول معاہدہ کرے گا یا پھر کسی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ کیمپ ڈیوڈ میں اجلاس بلانے کا ابتدائی فیصلہ ہی اس بات کی نشاندہی کررہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے، جبکہ اب وائٹ ہاؤس میں ہونے والا اجلاس امریکی پالیسی کے آئندہ لائحہ عمل کے تعین میں اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
ادھر عالمی سفارتی حلقے بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری رابطوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ کسی ممکنہ معاہدے سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔







