صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مضبوط کر دیا ہے اور ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی سمت بڑھ رہا ہے، جو وینزویلا کی جانب بھیجے گئے بحری بیڑے سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات کسی تصادم کی خواہش نہیں بلکہ امریکی مفادات کے تحفظ اور دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں  نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے جمعے کے روز ایرانی وزیر خارجہ سے مذاکرات کیے ہیں، اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک اور خطے کے لیے بہتر ہوگا، ڈیل نہ ہونے کی صورت میں ’’بہت بُرے نتائج‘‘ سامنے آ سکتے ہیں۔

عالمی امور پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جنگ بندی کے حوالے سے پیش رفت پر کام ہو رہا ہے،اس سلسلے میں جلد کسی مثبت خبر کی توقع کی جا رہی ہے، جو عالمی امن کے لیے اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس تنازع سے خود کو الگ رکھتے ہیں،اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ان کا نام کسی بھی سطح پر اس اسکینڈل سے جوڑا جا سکتا ہے۔

اس موقع پرانہوں  نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صنعتوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم معدنیات کا ایک اسٹریٹجک ذخیرہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ اقدام امریکا کی معاشی سلامتی اور صنعتی خود کفالت کے لیے نہایت اہم ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ان  کے بیانات نہ صرف ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ خطے میں ممکنہ کشیدگی اور عالمی سیاست میں آنے والی تبدیلیوں کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں۔