خبر رساں ادارے العربیہ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ایک فورم سے خطاب کے دوران زور دیا کہ جوہری معاملے پر امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ایک قدم آگے کی جانب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکالمہ ہمیشہ سے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے ایران کی حکمتِ عملی رہا ہے۔

ایرانی صدر نے واضح کیا کہ جوہری امور سے متعلق ایران کا مؤقف عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) میں درج حقوق پر مبنی ہے۔

اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران سے یورینیم کی افزودگی صفر کرنے کا مطالبہ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ تہران یورینیم کی افزودگی پر اصرار کرتا ہے کیونکہ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ایران کو یہ بتائے کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ہماری جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، مگر کوئی نتیجہ حاصل نہ کیا جا سکا، اب ان کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ افزودگی ایران کے لیے نہایت اہم ہے اور ایران افزودگی کی سطح سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2005 کے مذاکرات اور موجودہ مذاکرات کے درمیان فرق یہ ہے کہ اب خطے کے ممالک کی واضح موجودگی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات مثبت نتائج کے حصول میں رکاوٹ نہیں بنتے۔

یاد رہے کہ امریکی وفد کی قیادت مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے تھے، جب کہ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کوشنر بھی وفد میں شامل تھے۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔

دونوں وفود نے سلطنتِ عمان میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کو مثبت قرار دیا تھا۔ آئندہ چند دنوں میں مذاکرات کے دوسرے دور کی توقع ہے، جس میں ایرانی جوہری پروگرام پر مزید بات چیت کی جائے گی۔

اس دوران اگرچہ امریکی صدر نے مذاکرات کے ماحول کی تعریف کی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران اپنے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے تک نہ پہنچا تو نتائج سنگین ہوں گے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس سے قبل بھی اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ یورینیم کی افزودگی ایک ایسا حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران یورینیم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کی مخالفت کرتا ہے، یہ تجویز ماضی کے مذاکرات میں کئی بار سامنے آ چکی ہے۔

ادھر اسرائیل نے ان مذاکرات کو بے نتیجہ قرار دیا ہے، جب کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جو بدھ کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے، نے مطالبہ کیا ہے کہ جوہری معاملے کے ساتھ ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادیوں پر بھی بات کی جائے۔