عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق لاکھوں سوگواروں کی جانب سے امریکا اور ٹرمپ کے خلاف لگائے جانے والے نعروں کی گونج ایرانی حکومت تک بھی پہنچی، جس کے بعد وزارتِ خارجہ نے ایک خصوصی بیان جاری کیا۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی، سفارتی اور سیاسی محاذوں پر انصاف کے حصول کی کوششیں ہر صورت جاری رکھے گا اور یہ معاملہ ایرانی قوم کی مستقل قومی ترجیح رہے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں عوام کو یقین دلایا گیا کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے تمام ممکنہ بین الاقوامی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین میں خطے اور دنیا بھر سے اعلیٰ سطح کے سرکاری اور مذہبی وفود کی شرکت ان کی بین الاقوامی حیثیت، اثر و رسوخ اور ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا واضح ثبوت ہے۔

ایران نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کا نتیجہ تھی، جو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران اس معاملے کو تمام ضروری عالمی فورمز پر اٹھاتا رہے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کے امکانات پر بھی کام جاری رکھا جائے گا۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی موجودگی ایران کے لیے عالمی سطح پر حمایت اور احترام کی علامت ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ تہران میں لاکھوں افراد کا شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو الوداع کہنے کے لیے جمع ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایرانی عوام اپنے سابق سپریم لیڈر کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے 28 فروری کو ہونے والے مشترکہ حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے اہل خانہ اور عسکری قیادت کے ہمراہ شہید ہوگئے تھے، جن کی تجہیز و تکفین کا آغاز ہو چکا ہے۔