سینٹ کام کے مطابق یہ تعداد اس سے قبل بتائے گئے 44 جہازوں کے مقابلے میں چار زیادہ ہے، جو حالیہ دنوں میں ناکہ بندی کے دائرہ کار میں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

امریکا نے 13 اپریل سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جس کا ہدف آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے۔

یہ اقدام ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی پر عائد پابندیوں کے ردعمل میں اٹھایا گیا، جو امریکا-اسرائیل جنگ کے تناظر میں سامنے آئیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر معاہدہ ہونے تک یہ ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی، امریکی فوج بحری قزاقوں جیسا کام کر رہی ہے: ٹرمپ

واضح رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 11 اور 12 اپریل کو ہونے والے ایران-امریکا مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

مزید یہ کہ اس بحری ناکہ بندی نے عالمی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے میں رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔