ایرانی فوج نے ایک بیان میں واضح کیا کہ وہ امریکا کو کسی بھی صورت آبنائے ہرمز میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کی مرضی کے بغیر آبنائے ہرمز میں کسی بھی سرگرمی کا انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔

ایرانی فوج نے خطے کے ممالک کو بھی پیغام دیا کہ امریکا کی حمایت یا اس کا ساتھ دینا ایران کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک پھیل جائیں گے، جس کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوگی۔

یاد رہے کہ اس بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کے سرپرست بنیں گے اور اس کی نگرانی کے عوض ہمیں معاوضہ ملنا چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ امریکا کا ایک معاہدہ ہوا تھا، مگر ایران نے اسے توڑ دیا۔ وہ برے لوگوں کا ایک گروہ ہیں۔ ہم نے گزشتہ رات ایران پر بہت شدید حملے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، اسی لیے اب امریکا اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھے گا اور ممکن ہے اس کا انتظام بھی خود سنبھالے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت اور نگرانی کے بدلے امریکا کو معاوضہ دیا جائے گا، کیونکہ دیگر ممالک بہت امیر ہیں اور انہیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ امریکا یہ سب کچھ مفت میں کرے۔

امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا کے ساتھ جنگ میں ایران کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کی بحریہ، فضائیہ اور میزائل صلاحیتیں تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی کا واحد راستہ امریکی فوجی مداخلت کا خاتمہ ہے۔

ایرانی فورسز نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے اپنی مداخلت جاری رکھی تو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل مزید سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں میں نمایاں شدت آئی ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور آبنائے ہرمز کو بند رکھا ہوا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

تازہ کشیدگی نے گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری معاہدے کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنے اور 60 روزہ مذاکراتی عمل کے دوران فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا تھا۔