ایرانی اخبار تہران ٹائمز کے مطابق یہ حادثہ تربیتی مشق کے دوران پیش آیا۔ طیارے نے دو پائلٹس کے ہمراہ پرواز بھری تھی اور وہ 31ویں ٹیکٹیکل فائٹر اسکواڈرن سے تعلق رکھتا تھا۔ دورانِ پرواز مشتبہ صورتِ حال پیدا ہونے پر پائلٹس نے طیارہ واپس بیس پر لے جانے کا فیصلہ کیا۔

ہوابازی کے ایک ماہر نے العربیہ کو بتایا کہ پائلٹس نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی حد تک طیارے کو قابو میں رکھا اور اسے ہمدان ایئربیس تک واپس لانے میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔ تاہم لینڈنگ سے کچھ دیر قبل جب لینڈنگ گیئر کھولا گیا تو طیارہ اچانک بے قابو ہو کر ہچکولے کھانے لگا اور زمین سے جا ٹکرایا۔

ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق طیارے میں سوار دو پائلٹس میں سے ایک جان کی بازی ہار گیا، جب کہ دوسرا پائلٹ محفوظ رہا۔ بیان میں کہا گیا کہ طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا اور تاحال حادثے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔

مقامی میڈیا کے ایک بیان میں فضائیہ کے دفتر برائے تعلقاتِ عامہ نے کہا ہے کہ حادثے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ طیارے کی نوعیت یا اس واقعے کے حالات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی ایروسپیس فورس نے اس قیاس کے بارے میں کوئی سرکاری تبصرہ جاری نہیں کیا کہ ہوائی جہاز دوستانہ فائرنگ کا نشانہ بنا جبکہ مقامی اطلاعات کے مطابق آئی آر جی سی نے اس امکان کی تردید کی ہے۔