عالمی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق حملوں سے قبل کانگریس کے اہم قومی سلامتی رہنماؤں یعنی گینگ آف ایٹ کو بھی پیشگی طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام 1973 کے وار پاورز ریزولوشن کی روح کے منافی ہے، جس کے تحت صدر کو فوجی کارروائی سے متعلق کانگریس سے مشاورت اور 48 گھنٹوں کے اندر اطلاع دینا لازم ہے، جب کہ بغیر اجازت کارروائی 60 دن سے زیادہ جاری نہیں رکھی جا سکتی۔
سینیٹر ٹم کین نے الزام عائد کیا کہ صدر نے سینیٹ میں مجوزہ ووٹنگ سے قبل غیر قانونی جنگ شروع کرنے کی کوشش کی، کانگریس کو فوری طور پر واپس بلا کر اس معاملے پر بحث کی جانی چاہیے۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک سکمر نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ سینیٹرز کو خفیہ اور عوامی بریفنگ دے اور خطرے کی نوعیت سے متعلق تفصیلات فراہم کرے۔
اسی طرح سینیٹر مارک وارنر نے کہا کہ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی خاص طور پر کسی فوری خطرے کے بغیر سنگین آئینی سوالات کو جنم دیتی ہے، آئین واضح ہے کہ جنگ کا اختیار کانگریس کے پاس ہے۔ ریپبلکن سینیٹر رانڈ پال نے بھی کہا کہ وہ ایک اور صدارتی جنگ کی مخالفت کریں گے۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز نے کہا کہ اگرچہ ایران ایک مسئلہ ہے، تاہم پیشگی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔
ریپبلکن رکن تھامس میسی اور ڈیموکریٹ رکن روکھانا نے مشترکہ قرارداد پیش کی ہے، جس میں صدر کے ایران کے خلاف فوجی اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سینیٹ کے ریپبلکن رہنما جان تھیون اور سینیٹر لنڈزے گراہم نے حملوں کی بھرپور حمایت کی۔ گراہم نے اسے تاریخی موڑ قرار دیا اور کہا کہ ایران میں آیت اللہ حکومت کا خاتمہ قریب ہے۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
خیال رہے کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کا باضابطہ اعلان کانگریس کا اختیار ہے، تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی صدر نے رسمی اعلانِ جنگ نہیں کیا۔ 1973 کی وار پاورز ریزولوشن ویتنام جنگ کے بعد صدر کے اختیارات محدود کرنے کے لیے منظور کی گئی تھی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بار صدر نے ایران کی جانب سے فوری اور براہِ راست خطرے کا ٹھوس ثبوت عوام یا کانگریس کے سامنے پیش نہیں کیا، جب کہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اعلیٰ قیادت کو آگاہ کیا گیا تھا اور کارروائی امریکا کے دفاع اور خطے کے استحکام کے لیے ضروری تھی۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس اقدام نے امریکا میں ایک نئی آئینی اور سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔







