عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنگ بندی مذاکرات کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اب تک ایران اور امریکا کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست ملاقات نہیں ہوسکی۔

اسی دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں تنگ نظر اور بچکانہ قرار دیا۔

جنرل محمد رضا نقدی نے کہا کہ امریکی صدر کے پاس مستقبل کے لیے کوئی طویل المدتی وژن نہیں اور وہ دور رس سوچ اور پیش بینی کی صلاحیت سے محروم رہنما ہیں۔

ایرانی جنرل نے ٹرمپ کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے بیانات میں مستقل مزاجی نہیں، اس لیے ان کے الفاظ مستقبل کے لیے قابلِ اعتماد بنیاد فراہم نہیں کرتے۔

ان کے مطابق ٹرمپ کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونے سے امریکا کی عالمی حیثیت بھی متاثر ہوئی ہے، کیونکہ وہ اپنے بیانات کے نتائج پر اگلے 24 گھنٹوں کے بعد بھی غور نہیں کرتے۔

جنرل نقدی نے کہا کہ ایران کو ایسے زبانی وعدوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے جن کے پیچھے قابلِ عمل اور قابلِ نفاذ ضمانتیں موجود نہ ہوں۔

انہوں نے امریکی صدر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کی باتوں پر اعتماد ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے جنرل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ان کے مطابق امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی اور ملک کو تقسیم کرنا چاہتا تھا، تاہم وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکا۔