ترک سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حاقان فیدان نے کہا کہ ایران میں احتجاج حقیقی معاشی اور ساختی مسائل کی بنیاد پر ہو رہے ہیں، تاہم ایران کے مخالفین ان مظاہروں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں اسرائیل بھی شامل ہے۔ اسرائیل ایران کی اندرونی کشیدگی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، مگر یہ حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں حالیہ مظاہرے ماضی کے احتجاج سے مختلف ہیں اور ان کا دائرہ کار محدود ہے۔ ایرانی عوام باشعور ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ کہاں رکنا ہے اور کس حد تک ردعمل دینا ہے، اس لیے اسرائیل کے خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوں گے۔

ترک وزیر خارجہ نے اسرائیلی سیاست پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے بعض انتہا پسند وزرا اشتعال انگیز بیانات دے کر توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترک قیادت کے خلاف بیانات اسرائیلی سیاست میں معمول بن چکے ہیں، لیکن ترکیہ ایسے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا، کیونکہ یہ اکثر کمزور اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وزرا کی سیاسی شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حاقان فیدان نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں دانستہ رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور نئے مطالبات سامنے لا رہا ہے، حالانکہ فلسطینی فریق اپنی ذمہ داریاں پوری کر چکا ہے۔

ضرور پڑھیں: امریکا ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے، مارکو روبیو

انہوں نے کہا کہ ترکیہ غزہ میں انسانی امداد، تعمیر نو اور حتیٰ کہ امن مشن میں کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے، مگر اسرائیل اس وقت ترک کردار کی مخالفت کر رہا ہے، جب کہ امریکا ترکیہ کی خطے میں اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔

ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ صدر اردوان نے اسرائیل کے اس فریب پر مبنی نظام کو للکارا ہے جو دہائیوں سے خطے اور امریکی پالیسی کو متاثر کرتا آ رہا ہے، اردوان وہ رہنما ہیں جنہوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ اب دھوکے اور جھوٹ پر مبنی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کی صورتحال پر ایک اور پہلو سے بات کرتے ہوئے رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران میں جاری پُرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک 217 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ ڈھائی ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں مسلسل تیسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس بند ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے مظاہروں کے دوران اسلامی انقلاب کی کامیابیوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کو  سرخ لکیر  قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمانڈر اِن چیف کی قیادت میں فوج دشمن کی ہر سازش کا مقابلہ کرے گی، خطے میں دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے گی اور قومی مفادات و عوامی املاک کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔

ترک وزیر خارجہ کے مطابق خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور اسلامی دنیا بیدار ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خطے کے ممالک اپنے مسائل خود حل کریں اور کسی بیرونی نجات دہندہ کے انتظار کا دور ختم کیا جائے۔