سنیچر کی صبح ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے بتایا کہ ایران کا وفد سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ چکا ہے اور وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان کے مطابق یہ ملاقاتیں خطے میں جاری کشیدگی، جنگ کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے جاری سفارتی و ثالثی کوششوں کے تناظر میں ہوں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان کسی بھی براہِ راست ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں، اور تہران اپنے مشاہدات اور مؤقف پاکستان کے ذریعے منتقل کرے گا۔

ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور سید عاصم منیر نے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر ایرانی وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔ بعد ازاں اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر بیان میں اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔

یاد رہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، تاہم بعد میں جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی۔

حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کی تیاری جاری ہے، ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے جبکہ امریکی وفد کی آمد بھی متوقع ہے۔