میڈیا رپورٹس کے مطابق بات چیت میں خطے میں امن کی بحالی، کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی راستہ ہی استحکام کی جانب واحد مؤثر راستہ ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے شیڈول کے تحت عباس عراقچی عمان میں دورہ مکمل کرنے کے بعد اور روس روانگی سے قبل پاکستان کا دورہ کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق وہ پاکستانی حکام سے ملاقات کے بعد دوبارہ مسقط واپس جائیں گے۔
ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ ان کے وفد کا ایک حصہ مشاورت اور ضروری ہدایات کے لیے تہران واپس گیا تھا، جو بعد میں دوبارہ وفد میں شامل ہوگا۔
یاد رہے کہ عباس عراقچی اس وفد کی قیادت کر رہے تھے جو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد آیا تھا، تاہم امریکی وفد کی آمد سے قبل ہی مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔
اس دوران یہ بھی رپورٹس سامنے آئیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وفد کی پاکستان آمد روک دی، جس کے بعد صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی۔
ایرانی وفد نے 24 اپریل کو اسلام آباد پہنچ کر پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں، جن میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔
اب سفارتی ذرائع کے مطابق دوبارہ رابطوں اور بات چیت کے ذریعے کشیدگی میں کمی اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم مذاکرات کے اگلے مرحلے کا حتمی شیڈول ابھی واضح نہیں ہے۔






