سرکاری میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے اپنے خط میں کہا کہ ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا دفاع کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو خطرہ قرار دینا تاریخی حقائق اور موجودہ صورتحال کے برعکس ہے اور یہ تاثر طاقتور ممالک کے سیاسی و معاشی مفادات کے تحت پیدا کیا جاتا ہے۔

ایرانی صدر نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بداعتمادی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ابتدا میں کشیدہ نہیں تھے، تاہم 1953 کا ایرانی تختہ الٹنا ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جسے انہوں نے ایران کے وسائل کو قومیانے سے روکنے کے لیے امریکی مداخلت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکمران رضا شاہ پہلوی کی حمایت، صدام حسین کی پشت پناہی، سخت اقتصادی پابندیاں اور مذاکرات کے دوران مبینہ فوجی کارروائیاں اس بداعتمادی کو مزید گہرا کرتی رہی ہیں۔

صدر پزشکیان کے مطابق حالیہ فوجی کشیدگی اور بمباری نے ایرانی عوام کی زندگیوں، خیالات اور رویوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں۔