امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق رات بھر ہونے والی کارروائیوں میں اسٹریٹیجک عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ تہران کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ہنگامی امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات پر بھیجی گئیں۔

خیال رہے کہ ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہو سکی اور نہ ہی ایرانی حکام نے باضابطہ طور پر اس دعوے کی توثیق کی ہے۔

واشنگٹن اور یروشلم کی جانب سے بھی ان مبینہ ہلاکتوں پر کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ اس سے قبل دونوں حکومتوں نے کارروائی کو محدود قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد خطے کی سلامتی کو لاحق خطرات کو کمزور کرنا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی ٹی وی 'چینل 12' نے رپورٹ کیا کہ مشترکہ آپریشن کے دوران خامنہ ای سے منسلک ایک کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے۔

چینل 12 کے صحافی امت سیگل کے مطابق حملے کے وقت خامنہ ای زیرِ زمین تھے، تاہم غالب امکان ہے کہ وہ اپنے ذاتی بنکر میں موجود نہیں تھے۔ اس رپورٹ کی بھی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔

ایرانی میڈیا نے متاثرہ خاندان کے افراد کی شناخت واضح نہیں کی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات میں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ خامنہ ای کے کس بیٹے یا بیٹی کے خاندان کو نقصان پہنچا۔

واضح رہے کہ سپریم لیڈر کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، جن سب کی شادیاں بااثر مذہبی اور سیاسی خاندانوں میں ہوئی ہیں۔ مصطفیٰ خامنہ ای کی شادی مرحوم آیت اللہ عزیز اللہ خوشوقت کی صاحبزادی سے ہوئی۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرا حداد عادل، سابق ایرانی پارلیمانی اسپیکر غلام علی حداد عادل کی بیٹی ہیں۔ مسعود خامنہ ای کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی شادی سید محسن خرازی کی صاحبزادی سے ہوئی۔

میثم (یا میثم/میثم) خامنہ ای کی شادی معروف تاجر محمود للاچیان کی بیٹی سے ہوئی۔ خامنہ ای کی بیٹیاں بشرٰی اور ہدیٰ بھی بااثر خاندانوں میں بیاہی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: کئی اشارے مل رہے ہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای اب ہمارے درمیان نہیں رہے، اسرائیلی وزیرِاعظم

ان مبینہ شہادتوں کے بعد ایران میں داخلی دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت سخت ردعمل دے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے سیاہ لباس میں ملبوس سوگواروں کی ویڈیوز نشر کیں، جب کہ علما نے قومی اتحاد کی اپیل کی۔

اس سے قبل بعض غیر مصدقہ اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں خود خامنہ ای کی ہلاکت کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی گئی تھیں، تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جہاں تک ان کے علم میں ہے خامنہ ای زندہ ہیں۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر ہونے والے حملوں کا جواب دیا جائے گا، جب کہ عالمی رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صورتحال بگڑنے سے خطے میں وسیع تر تنازع بھڑک سکتا ہے۔