امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت صرف اس وجہ سے موجود ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس زیادہ آپشنز موجود نہیں، اور وہ صرف محدود مدت کے لیے عالمی آبی گزرگاہوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں مذاکرات ہی ایران کے لیے واحد راستہ ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جس کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے اور جسے خطے میں ممکنہ امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتے جب تک سابقہ وعدوں پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جاتا، ایران کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں اس کے حقوق کو تسلیم نہ کیا جائے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا نے ماضی میں بعض وعدے کیے تھے جن میں پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق معاملات شامل تھے، تاہم تہران کا الزام ہے کہ ان پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس کشیدگی کو براہِ راست مذاکرات کا حصہ تسلیم نہیں کیا جا رہا۔
ادھر ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی کہا ہے کہ تہران ایک ایسے “حقیقی معاہدے” کے لیے تیار ہے جس میں اس کے قومی مفادات اور حقوق کو تسلیم کیا جائے، تاہم کسی بھی یکطرفہ دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جنہوں نے پاکستان روانگی سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے مذاکرات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو امریکا نرم رویہ اختیار نہیں کرے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں دونوں فریقین سخت مؤقف کے ساتھ میز پر بیٹھ رہے ہیں،اس کشیدگی کے باوجود مذاکرات کا آغاز خود ایک اہم پیش رفت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ فریقین کے درمیان اختلافات گہرے ہیں، تاہم پاکستان کی میزبانی میں شروع ہونے والا یہ عمل خطے میں کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ فی الحال دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں جہاں یہ اہم مذاکرات جاری ہیں۔







