امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کمال خرازی نے کہا کہ ایران ایک قدیم تہذیب اور مضبوط ثقافتی روایات کا حامل ملک ہے، ایرانی قوم کو اپنی 500 سالہ تاریخی وراثت، شیعہ نظریات اور اسلامی روحانیت سے طاقت ملتی ہے، جس کے باعث وہ کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے امریکی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بارے میں یہ تاثر دینا کہ وہ طویل جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتا، دراصل امریکی پروپیگنڈا ہے،ایران کی دفاعی صلاحیت مضبوط ہے اور ملک اپنی عسکری ضروریات کے لیے ہتھیار زیادہ تر اندرونِ ملک تیار کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج اپنے ملک کے دفاع کے لیے پُرعزم ہیں اور کسی بھی طویل تنازع کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں،موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایران کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔

انہوں  نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور خطے میں جاری کشیدگی ایران کے وجود کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران پر دباؤ بڑھایا گیا تو ملک بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے بھی امریکی صدر کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم کو دھمکیوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: تہران میں نئے سپریم لیڈر سے یکجہتی کیلئے ریلی کے دوران امریکا و اسرائیل کا حملہ

علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ایران ایک ایسی قوم ہے جس کی ثقافت اور تاریخ قربانی اور مزاحمت سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عاشورا کے فلسفے سے متاثر قوم کو کھوکھلی دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں کیا جا سکتا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی راستے بند ہوتے گئے تو مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔