عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی بالمشافہ ملاقات 2019 کے بعد ہوئی۔ مذاکرات کے بعد امریکی صدر جنوبی کوریا سے روانہ ہوگئے، جب کہ چینی صدر نے سربراہی اجلاس میں مرکزی کردار ادا کیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے افتتاحی سیشن میں کہا کہ موجودہ دنیا غیر یقینی اور پیچیدہ حالات سے دوچار ہے، ایسے میں تمام ممالک کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔

اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں رہنماؤں نے زور دیا کہ خطے کی ترقی کے لیے "مضبوط اور شفاف تجارت" ناگزیر ہے اور عالمی معیشت کے بدلتے حالات سے نمٹنے کے لیے "اقتصادی تعاون کو مزید گہرا" کرنے کا عزم کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق 21 رکن ممالک پر مشتمل APEC ، جن میں امریکا، چین، جاپان اور جنوبی کوریا شامل ہیں، تجارتی انضمام کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ "تجربات کے تبادلے، صلاحیت سازی اور کاروباری روابط" کو بڑھائیں گے۔ رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت (AI) اور آبادی میں کمی کے باعث پیدا ہونے والے سماجی و معاشی چیلنجز سے نمٹنے پر بھی اتفاق کیا۔


اجلاس کے میزبان جنوبی کورین صدر لی جائے میونگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا بھر میں آزاد تجارت کے نظام کو خطرات لاحق ہیں، عالمی معیشت غیر یقینی کی لپیٹ میں ہے اور سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کا کمزور ہونا عالمی استحکام کے لیے تشویش ناک ہے، ایسے میں تمام ممالک کو اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق APEC رہنماؤں کے مشترکہ اعلامیے پر اتفاق رائے ہونا کسی حد تک "معجزہ" قرار دیا جا رہا ہے۔ سنگاپور کی ہنرک فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر ڈیبرا ایلملز کے مطابق کچھ ممالک کے سخت مؤقف کے باوجود متفقہ دستاویز تیار ہونا ایک مشکل عمل تھا۔ حکام نے آخری لمحات تک الفاظ کے چناؤ میں رد و بدل کیا تاکہ قابلِ قبول نتیجہ حاصل ہو سکے۔

اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ اور جنوبی کورین صدر لی جائے میونگ کے درمیان دوطرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی تجارت اور شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کی گئی۔

شی جن پنگ 2014 کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی کوریا کے دورے پر آئے، جب کہ صدر لی گزشتہ جون میں ایک ضمنی انتخاب کے نتیجے میں اقتدار میں آئے۔

ماہرِ امورِ خارجہ روب یارک کے مطابق صدر لی کی پالیسی کا محور خطے میں استحکام ہے۔ وہ چین کے ساتھ کشیدگی کم کرنے، امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تسلسل رکھنے اور جاپان کے ساتھ سفارتی پیش رفت کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر لی درپردہ اقدامات کے ذریعے امریکا پر سیکیورٹی انحصار کم کرنے اور چین کی ہائبرڈ جنگی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ ان معاملات کو عوامی تنازع کی صورت دینے سے گریز کریں گے۔