ٹائیگرے ایک تباہ کن دو سالہ جنگ کا مرکز تھا جس نے ٹائیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کو ایتھوپیا کی وفاقی فوج کے خلاف کھڑا کردیا ہے۔

ایتھوپیا کے  علاقے افار نے ہمسایہ ملک ٹائیگرے کی افواج پر اس کے علاقے میں داخل ہونے، کئی دیہاتوں پر قبضہ کرنے اور شہریوں پر حملہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور اسے 2022 کے امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے جس نے شمالی ایتھوپیا میں جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔

افریقی یونین کے مطابق 2020 اور 2022 کے درمیان ٹائیگرے ایک تباہ کن دو سالہ جنگ کا مرکز رہا ہے جس نے ٹائیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف)  کو ایتھوپیا کی وفاقی فوج کے خلاف کھڑا کیا اور اس کے باعث کم از کم چھ لاکھ افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔

بدھ والے دن جاری کردہ ایک بیان میں افار حکام نے کہا کہ "ٹی پی ایل ایف کے جنگجو آج اپنی پوری طاقت کے ساتھ افار کے علاقے میں داخل ہوئے ہیں"۔

ٹائیگرے  پر حکومت کرنے والے اس گروپ پر مختلف الزام عائد کیے گئے ہیں جن میں "چھ دیہاتوں کو کنٹرول کرنے اور شہریوں پر  بمباری کرنا" سرفہرست ہے۔ افار حکام کی جانب سے ہلاکتوں کی تفصیلات ابھی تک فراہم نہیں کی گئیں۔

افار انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ٹی پی ایل ایف ماضی میں ہونے والی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھ رہا اور ابھی تک دہشتگردی جاری رکھے ہوئے ہے۔

افار حکام کے تازہ ترین  بیان کے مطابق، ٹائیگرے فورسز نے علاقے کے شمال مغرب میں واقع ضلع میگال پر شہری چرواہوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیاہے۔

افارحکام نے خبردار  کیا ہے کہ اگر ٹی پی ایل ایف فوری طور پر اپنی کارروائیاں بند نہیں کرے گا تو ہم کسی بھی بیرونی حملے سے خود کو بچانے کے لیے اپنا دفاعی حق رکھتے ہیں اور ہم قومی سلامتی پر آنچ بھی نہیں آنے دیں گے"۔

حکام کا کہنا تھا  کہ ٹائیگرے کی جانب سے شروع کی جانے والی یہ نئی لڑائی  ایتھوپیا کی وفاقی حکومت اور ٹگراین رہنماؤں کے درمیان نومبر 2022 میں طے پانے والےپریٹوریا امن معاہدے کو کھل کر  تباہ کررہی ہے۔