ٹولوز وولکینک ایش ایڈوائزری سینٹر کے مطابق افار ریجن میں واقع ہیلی گوبی آتش فشاں اتوار کو کئی گھنٹوں تک پھٹتا رہا۔

 یہ واقعہ تقریباً 12 ہزار سال بعد پہلی مرتبہ ریکارڈ کیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں دھوئیں اور راکھ کے گھنے بادل 14 کلومیٹر بلندی تک آسمان میں پھیل گئے اور بحیرہ عرب کی جانب بڑھنے لگے۔

راکھ کے بادل کے ممکنہ راستے پر بات کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر ضیغم نے نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کو بتایا کہ کراچی یا پاکستان کے کسی شہری علاقے میں اس کے اثرات محسوس نہیں ہوں گے۔

 ان کے مطابق بادل بحیرہ عرب کے اوپر سے گزرتے ہوئے عمان اور ممبئی فلائٹ انفارمیشن ریجن کی جانب جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ راکھ کا بادل 50 ہزار فٹ کی بلندی پر سفر کر رہا ہے اور کل رات کے تخمینے کے مطابق اس کا ’اثر گہرے بحیرہ عرب‘ تک محدود رہے گا۔ البتہ، گوادر سے 60 ناٹیکل میل جنوب میں راکھ کے بادل کا اثر مشاہدہ کیا گیا، جس پر متعلقہ اداروں کو وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے کی آواز اور جھٹکے جبوتی، ٹگرے اور وولو کے علاقوں تک محسوس کیے گئے۔ قریبی بستیوں میں راکھ گرنے سے روشنی متاثر ہوئی اور علاقے عارضی تاریکی میں ڈوب گئے۔

 ڈچ ایجنسی بی این او نیوز کے مطابق دھماکے صبح 8:30 بجے شروع ہوئے اور دوپہر تک وقفے وقفے سے جاری رہے۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس میں بتایا گیا ہے کہ آتش فشاں کے پھٹنے کا عمل رک چکا ہے، تاہم ماہرین نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 مشی گن ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ماہرِ آتش فشاں پروفیسر سائمن کارن کے مطابق ہیلی گوبی کے قریب ہولوسین دور میں پھٹنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، جس کی وجہ سے یہ واقعہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

فلائٹ ٹریکنگ سسٹم فلائٹ ریڈار نے بھی راکھ کے بادل کے ممکنہ راستے کا نقشہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق یہ بادل جزیرہ نما عرب اور بحیرہ عرب کی طرف بڑھ رہا ہے اور 18 گھنٹوں میں جنوبی سندھ کے فضائی حصے سے گزرسکتا ہے، تاہم زمین پر کسی نقصان یا اثرات کا امکان نہیں۔