ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ان کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران پر اس کی جوہری سرگرمیوں کے باعث دوبارہ عالمی پابندیاں لگنے کا امکان ہے۔

پزشکیان نے کہا “میں اس اسمبلی کے سامنے ایک بار پھر اعلان کرتا ہوں کہ ایران نے کبھی ایٹمی بم بنانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کبھی کرے گا۔ ہم جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔”

برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے 28 اگست کو ایک 30 روزہ عمل شروع کیا ہے جو 27 ستمبر کو ختم ہوگا، تاکہ ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکیں۔

تینوں یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ تہران 2015 کے جوہری معاہدے پر عملدرآمد میں ناکام رہا ہے، جس کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔

یورپی طاقتوں نے پابندیاں فوری طور پر بحال کرنے کے بجائے چھ ماہ تک ملتوی کرنے کی پیشکش کی ہے، بشرطیکہ ایران اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دے، یورینیم کے ذخیرے سے متعلق خدشات دور کرے اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہو۔

ایرانی صدر نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے یہ عمل امریکا کے کہنے پر شروع کیا ہے تاکہ ایران پر عالمی دباؤ بڑھایا جا سکے۔