برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منیاپولس میں مظاہرے کی قیادت مقامی میکسیکن رقاصوں کے ایک گروپ نے کی، جو اس رہائشی علاقے کی جانب مارچ کر رہے تھے جہاں رینی گڈ اپنی گاڑی میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئیں۔
منیاپولس پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد بہت زیادہ تھی اور وہ رینی گڈ کا نام لے کر نعرے لگا رہے تھے، جن میں امیگریشن اینڈ کسٹمز اینفورسمنٹ امیگریشن اینڈ کسٹمز اینفورسمنٹ کو ختم کرنے اور انصاف کے بغیر امن نہ ہونے جیسے مطالبات شامل تھے۔ مظاہرین امیگریشن ادارے کو اپنی سڑکوں سے نکالنے کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔
احتجاج میں شریک 30 سالہ ایلسن مونٹگمری نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ شدید غصے، دکھ اور افسردگی کا شکار ہیں اور بس یہی امید رکھتے ہیں کہ حالات میں بہتری آئے۔ ادھر فلادلفیا میں مظاہرین نے آئی سی ای کے خلاف اور امریکہ میں فاشزم نہ چاہنے کے نعرے لگائے۔
مین ہٹن میں سینکڑوں افراد نے مارچ کیا اور امیگریشن کورٹ کے باہر سے گزرے، جہاں سماعت کے بعد تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے آئی سی ای کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
انڈیویسبل کی کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیا گرینبرگ نے کہا کہ وہ رینی کے لیے انصاف، آئی سی ای کو کمیونٹی سے باہر نکالنے اور منتخب نمائندوں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، اور اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
منیاپولس کے میئر جیکب فری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مظاہرے زیادہ تر پُرامن رہے، تاہم جو کوئی املاک کو نقصان پہنچائے گا یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہوگا، اسے گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہنگامہ آرائی کے جواب میں ویسا ردعمل نہیں دیں گے اور کسی کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔
سٹی آف منیاپولس کے بیان کے مطابق جمعے کی رات صورتحال پر قابو پانے کے لیے 200 سے زائد قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کیے گئے۔ مظاہروں کے دوران ڈپو رینیسانس ہوٹل کو تقریباً چھ ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، جبکہ کچھ مظاہرین نے ہلٹن کینوپی ہوٹل میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی، جہاں مبینہ طور پر آئی سی ای اہلکار ٹھہرے ہوئے تھے۔
پولیس چیف برائن اوہارا نے بتایا کہ کچھ افراد نے ہوٹل کی کھڑکیاں توڑیں اور دیواروں پر نعرے لکھے۔ ان کے مطابق ابتدا میں ہلٹن کینوپی ہوٹل کے باہر احتجاج شور شرابے تک محدود تھا، تاہم جب ایک ہزار سے زائد افراد جمع ہو گئے تو صورتحال کشیدہ ہو گئی اور 29 مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔
برائن اوہارا کا کہنا تھا کہ پولیس نے منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کی، صورتحال کو سنبھالنے کے لیے وقت لیا، متعدد وارننگز دیں اور آخرکار مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا۔







