آذربائیجان کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو دوپہر کے وقت پیش آیا جب ایک ڈرون نے نخچیوان کے ہوائی اڈے کی عمارت کو نشانہ بنایا جبکہ دوسرا ڈرون شکرآباد نامی گاؤں میں ایک اسکول کے قریب گر گیا۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حملے میں دو شہری زخمی ہوئے اور ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا۔ آذربائیجان نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈرون ایرانی سرزمین سے داغے گئے تھے اور تہران سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔
صدر الہام علییف نے ایک بیان میں کہا کہ نخچیوان کو ’بزدلانہ حملے‘ کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان اس واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے۔
اس واقعے کے بعد آذربائیجان نے ایران کے سفیر مجتبیٰ دمیرچیلو کو طلب کر لیا اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر مناسب ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
ایران کی فضائی اور بحری قوت تباہ کر دی، اس کو روکنا ہماری اولین ترجیح ہے: ٹرمپ
دوسری جانب ترکی نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنانے والے حملے جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کر سکتے ہیں۔
ایران نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیحون بیراموف سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا کہ تہران اس واقعے کا ذمہ دار نہیں ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ممکن ہے اس حملے کے پیچھے اسرائیل ہو اور اس کا مقصد ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا ہو۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بناتا اور اس کی فوجی کارروائیاں صرف ان دشمن اڈوں کے خلاف ہوتی ہیں جو خطے میں امریکا یا اسرائیل استعمال کرتے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق جنوبی قفقاز میں صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کیونکہ نخچیوان گزشتہ سال آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ہونے والے ایک امن معاہدے کا حصہ تھا۔
اس معاہدے میں ایک ٹرانسپورٹ راہداری کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے جسے زنگیزور راہداری کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے آذربائیجان کے مرکزی حصے کو نخچیوان سے ملانے کا منصوبہ ہے۔
ایران اس منصوبے کی مخالفت کرتا رہا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے آرمینیا تک اس کی رسائی متاثر ہو سکتی ہے اور اس کی سرحدوں کے قریب غیر ملکی اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔
ادھر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران عراق، قطر اور سعودی عرب میں بھی ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں بھی شدت آ گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال ایک وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا کر رہی ہے۔







