واضح رہے کہ جنگ کے دوران غزہ میں بچوں کے تعلیمی سیشنز معطل رہے اور تعلیم کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہو کر رہ گیا تھا۔ تاہم اب اسرائیلی حکام نے اسکولوں کے لیے تعلیمی ساز و سامان اور کٹس کی فراہمی کی اجازت دی ہے، حالانکہ جنگی تباہ کاریوں کے نتیجے میں زیادہ تر اسکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
غزہ میں اقوامِ متحدہ کے ادارے انروا کے تعلیمی مراکز کو بھی ختم کر دیا گیا، جب کہ تعلیم کا پورا نظام اسرائیل کی جنگی حکمتِ عملی کی نذر ہو گیا ہے۔
یونیسف کے مطابق ایک روز قبل تعلیمی کٹس غزہ منتقل کی گئی ہیں، جن میں پینسلیں، ورک بکس، لکڑی سے بنا تعلیمی معاون سامان اور کم عمر بچوں کے لیے تعلیمی کھیلوں کی اشیاء شامل ہیں۔
یونیسف نے بتایا کہ مزید دو ہزار 500 تعلیمی کٹس کی آمد متوقع ہے، کیونکہ فی الحال اتنی ہی تعداد میں کٹس کی ترسیل کی اجازت دی گئی ہے۔
Safe spaces to learn - this is what children in Gaza need again!
— UNICEF (@UNICEF) January 27, 2026
UNICEF and partners have launched a critical Back to Learning programme so children like 13-year-old Jana don’t lose access to learning anymore.
Share this video to echo UNICEF Spokesperson @1james_elder: “Let’s… pic.twitter.com/5GK802zEhL
اسرائیلی فوج کے ماتحت سول ادارے کوگیٹ کو ان تعلیمی اشیاء کی غزہ منتقلی کی نگرانی سونپی گئی ہے تاکہ اجازت یافتہ مقدار سے زائد سامان غزہ منتقل نہ ہو سکے۔
یاد رہے کہ غزہ میں دو سال سے زائد جاری رہنے والی جنگ نہ صرف آبادی، گھروں، کاروبار اور تعلیمی اداروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی بلکہ تعلیم و تدریس کا پورا شعبہ بھی شدید نقصان سے دوچار ہوا ہے۔
اسرائیل کی غزہ جنگ کے نتیجے میں 20 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، جب کہ ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے۔ بے شمار طلبہ و طالبات سے نہ صرف بمباری کے ذریعے ان کے اسکول چھین لیے گئے بلکہ ان کا بنیادی حقِ تعلیم بھی سلب کر لیا گیا۔
یونیسف کے مطابق، یونیسکو نے اس دوران کوشش کی کہ تعلیمی وسائل اور معاونت کے بغیر ہی غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکالا جا سکے۔
UNICEF delivers school kits to Gaza for first time in 2½ years
— The Cradle (@TheCradleMedia) January 27, 2026
——
On Tuesday, the UN children’s agency (UNICEF) reported that, for the first time in two and a half years, it had been able to deliver school kits containing learning materials into Gaza, which had previously been… pic.twitter.com/Y4E6bqitZ8
یونیسف اس وقت تعلیمی معاونت کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہے تاکہ اسکول جانے کی عمر کے تقریباً تین لاکھ 36 ہزار بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
اقوامِ متحدہ کی جولائی 2025 میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق غزہ میں 97 فیصد اسکولوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچ چکا ہے۔
یاد رہے کہ غزہ میں تعلیم کے لیے دستیاب زیادہ تر مقامات یونیسف کی معاونت سے قائم کیے جائیں گے، جو زیادہ تر وسطی اور جنوبی غزہ میں ممکن ہوں گے۔
یونیسف کے مطابق غزہ جنگ کے دوران مجموعی طور پر 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 20 ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔ مزید یہ کہ 10 اکتوبر 2025 سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 110 فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں۔






