چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق مقامی میڈیا ادارے ٹولو نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ بچوں کے حقوق کے عالمی انڈیکس میں افغانستان نے مجموعی طور پر 0.214 پوائنٹس حاصل کیے اور 194 ممالک کی فہرست میں 194ویں پوزیشن حاصل کی، جو بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے سب سے کم درجہ بندی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بچوں کے حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور بچوں کی زندگی سے متعلق کئی اہم شعبوں میں سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔

ان چیلنجز میں صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، تعلیمی مواقع کی کمی، تحفظ کے مسائل اور محفوظ ماحول کی عدم دستیابی شامل ہیں۔

سالانہ عالمی انڈیکس میں مختلف ممالک کا جائزہ بچوں کی صحت، تعلیم، تحفظ اور رہائشی ماحول سمیت متعدد اشاریوں کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ ممالک بین الاقوامی معیار کے مطابق بچوں کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کے تحفظ میں کس حد تک کامیاب ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کو درپیش معاشی مشکلات، انسانی بحران، تعلیمی رکاوٹیں اور بنیادی سہولیات کی محدود دستیابی بچوں کی زندگیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

یہ درجہ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان میں انسانی امداد، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو درپیش مسائل پر بین الاقوامی سطح پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔