عراقی وزارتِ داخلہ کے مطابق اغوا کا واقعہ منگل کے روز پیش آیا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اغوا کاروں کا تعاقب کیا، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا اور اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی قبضے میں لے لی۔

حکام کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے اور مغوی صحافی کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عراق میں حالیہ ہفتوں کے دوران تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں صوبہ الانبار سمیت مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب عالمی تنظیم رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں صحافی سیاسی عدم استحکام اور مالی دباؤ کے باعث ہر طرف سے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جب کہ ریاست ان کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

تنظیم کے مطابق اغوا جیسی کارروائیاں اکثر صحافیوں کو خوفزدہ کرنے اور خاموش کرانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور اب یہ خطرہ صرف معروف صحافیوں تک محدود نہیں رہا۔

مزید پڑھیں: اتحادی ممالک آبنائے ہرمز جا کر خود تیل حاصل کریں، امریکا اب ہر کسی کی مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ

اسی طرح کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بھی 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد عراق میں میڈیا کی آزادی کی خلاف ورزیوں میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔

تنظیم کے مطابق مارچ کے وسط میں کرکوک میں ایک ٹی وی عملے پر حملہ کیا گیا، جس کا الزام پاپولر موبلائزیشن فورسز سے منسلک جنگجوؤں پر عائد کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق عراق میں موجودہ صورتحال صحافیوں کے لیے مزید خطرناک بنتی جا رہی ہے، جہاں انہیں نہ صرف سیکیورٹی خطرات بلکہ سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے، جس سے آزادیٔ صحافت شدید متاثر ہو رہی ہے۔