میڈیا رپورٹ کے مطابق بعض نیٹ ورکس میں خفیہ انٹرویو سوالات اور ٹیسٹ مواد ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے بھرتی کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

 اس صورتحال کے بعد امریکی ایچ-1 بی ویزا اور امیگریشن نظام پر بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ بعض حلقے ٹیکنالوجی کمپنیوں میں غیر ملکی ملازمین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں گوگل کے سابق کنٹریکٹر اسٹیون ایجنگٹن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی ٹیک کمپنیوں میں بعض اوقات مقامی ملازمین کو نئے آنے والے اسٹاف کو ٹریننگ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور بعد میں انہی معلومات کے غلط استعمال کے خدشات بھی سامنے آتے ہیں۔

اسٹیون ایجنگٹن کے مطابق بعض مواقع پر یہ بھی دیکھا گیا کہ انٹرویو کے دوران حاصل ہونے والے سوالات اور مواد غیر رسمی ذرائع سے دیگر افراد تک پہنچائے جاتے ہیں، جس سے بھرتی کے نظام کی شفافیت متاثر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی سے چین، روس اور وسطی ایشیا تک نیا تجارتی ریل روٹ پاکستان کے لیے فائدہ مند کیوں ہے؟

برطانوی میڈیا رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں امریکی ٹیک ورکرز کے درمیان ملازمتوں کے مواقع اور آؤٹ سورسنگ کے رجحان پر تشویش بڑھ رہی ہے، جبکہ مقامی ملازمین میں بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔

رپورٹ کے بعد امیگریشن پالیسی اور خاص طور پر H-1B ویزا سسٹم کے حوالے سے ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے، جس میں بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیک انڈسٹری میں بھرتی کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اگر ان الزامات میں حقیقت ہے تو یہ نہ صرف کمپنیوں کے اندرونی بھرتی نظام پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کی نقل و حرکت اور پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔