بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سونم وانگچک گزشتہ 21 روز سے بھوک ہڑتال پر تھے اور صرف پانی کے سہارے احتجاج جاری رکھے ہوئے تھے۔ مسلسل فاقہ کشی کے باعث ان کی صحت تیزی سے خراب ہوئی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے فوری طبی امداد کی ضرورت پر زور دیا۔

دہلی پولیس کے مطابق عدالت کی ہدایات اور میڈیکل ٹیم کی سفارشات کی روشنی میں سونم وانگچک کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ ان کی جان کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق معالجین کا کہنا ہے کہ تقریباً تین ہفتوں سے جاری بھوک ہڑتال کے باعث 59 سالہ سونم وانگچک کا وزن تقریباً 9 کلوگرام کم ہو چکا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق مسلسل صرف پانی پر انحصار کرنے سے جسم کے اہم اعضا متاثر ہو سکتے ہیں اور اگر بروقت علاج نہ کیا گیا تو صورتحال جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طویل بھوک ہڑتال کے دوران جسم میں توانائی، نمکیات اور غذائیت کی شدید کمی پیدا ہو جاتی ہے، جس سے دل، گردوں اور دیگر اہم اعضا کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

سونم وانگچک بھارت میں میڈیکل داخلہ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور امتحانی نظام پر اٹھنے والے سوالات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور ملک میں امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا مؤقف ہے کہ طلبہ کے مستقبل سے جڑے امتحانات میں شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے، جبکہ مبینہ بے ضابطگیوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات بھی ضروری ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال میں مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، سماجی کارکنوں اور شہری تنظیموں کی بڑی تعداد اظہارِ یکجہتی کر رہی ہے ،  امتحانی نظام میں شفافیت کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں اور حکومت کو عوامی مطالبات سننے چاہییں۔

احتجاجی شرکا نے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانی نظام کو سیاسی اثرورسوخ سے پاک بنایا جائے تاکہ طلبہ کو مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیں: انڈین سماجی کارکن سونم وانگچک کا بھوک ہڑتال کا 17واں روز، اپوزیشن کی ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

سونم وانگچک کی اسپتال منتقلی کے باوجود احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مجوزہ پرامن مارچ اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہوگا، جس میں ملک بھر سے طلبہ اور شہریوں کی شرکت متوقع ہے۔

اس سے قبل اپنے حامیوں سے خطاب میں سونم وانگچک نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بڑی تعداد میں پرامن انداز میں پارلیمنٹ مارچ میں شریک ہوں تاکہ عوامی آواز جمہوری اداروں تک پہنچائی جا سکے۔

سونم وانگچک کی اسپتال منتقلی کے بعد بھی بھارتی حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔

واضح رہے کہ  اگر حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان مذاکرات نہ ہوئے تو آنے والے دنوں میں احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔