ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق پولیس نے بدھ کے روز مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر متعدد افراد کو حراست میں لیا، جن میں سید یاسین موسوی، شیخ علی المسترشد، شیخ جعفر عاشور، شیخ نذیر ملک اور شیخ محمود طہری شامل ہیں۔
حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم امریکنز فار ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس ان بحرین کے مطابق حالیہ گرفتاریوں کے بعد رواں سال مئی سے اب تک حراست میں لیے گئے شیعہ رہنماؤں کی تعداد کم از کم 53 تک پہنچ گئی ہے۔
بحرینی وزارت داخلہ نے گرفتار افراد پر “غیر ملکی ریاست کے ساتھ تعاون” اور ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔
مقامی حقوقِ انسانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت وسیع تر انسدادِ دہشت گردی قوانین کو استعمال کرتے ہوئے پرامن مذہبی اظہار اور سیاسی اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا سے رابطے جاری، اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو فیصلہ کن جواب دیں گے: ایران
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور بحرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور حکام نے پہلے بھی متعدد افراد کو ایران کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
دوسری جانب بحرین کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے کہ وہ شیعہ شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتی ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتی آ رہی ہیں۔






