سرکاری سطح پر جاری بیانات میں ان مشاورتی اجلاسوں کی تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں، تاہم اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ہارن آف افریقہ اور بحیرۂ احمر کی سلامتی ایجنڈے کا مرکزی موضوع رہی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی مختصر بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کے وہ مسائل جو ماضی میں الگ الگ سمجھے جاتے تھے، اب ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑ چکے ہیں۔
قاہرہ کیوں متحرک ہوا؟
کئی برسوں تک مصر اور ایتھوپیا کے تعلقات کا سب سے بڑا تنازع گرینڈ ایتھوپین رینیسانس ڈیم رہا، لیکن اب قاہرہ کی تشویش صرف دریائے نیل تک محدود نہیں رہی۔
مصر کو خدشہ ہے کہ ایتھوپیا سمندر تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے، بندرگاہوں پر اثرورسوخ بڑھانے اور ہارن آف افریقہ میں اپنے سیاسی و عسکری کردار کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف بحیرۂ احمر بلکہ مصر کی مجموعی قومی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
مصر کے لیے بحیرۂ احمر محض ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی تجارت، سوئز کینال اور قومی معیشت کا بنیادی ستون ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی ہر تبدیلی قاہرہ کے لیے براہِ راست اہمیت رکھتی ہے۔
صومالیہ اس سفارت کاری کا اہم مرکز کیوں؟
صومالیہ کی اہمیت صرف داخلی سلامتی یا دہشت گردی تک محدود نہیں۔ اس کا جغرافیائی محل وقوع باب المندب آبنائے اور عالمی بحری تجارتی راستوں کے قریب ہونے کی وجہ سے اسے خطے کا انتہائی اہم ملک بناتا ہے۔
دوسری جانب ایتھوپیا اور صومالیہ کے درمیان سمندر تک رسائی اور خودمختاری کا تنازع گزشتہ برسوں میں شدت اختیار کر چکا ہے۔ ایتھوپیا سمندر تک براہِ راست رسائی کو اپنی معاشی ضرورت قرار دیتا ہے، جب کہ صومالیہ اسے اپنی علاقائی خودمختاری کے خلاف اقدام سمجھتا ہے۔
اسی تنازع نے صومالیہ کو مصر کے مزید قریب کر دیا ہے، جب کہ قاہرہ بھی اس تعلق کو خطے میں اپنا اثرورسوخ مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ تصور کر رہا ہے۔
اریٹیریا کی اہمیت کیا ہے؟
بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع اریٹیریا بھی اس سفارتی منظرنامے کا ایک اہم فریق بن چکا ہے۔
اگرچہ اریٹیریا کے مفادات ہر معاملے میں مصر یا صومالیہ سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں، تاہم ایتھوپیا کے ساتھ اس کے تاریخی تعلقات اور اس کی جغرافیائی اہمیت اسے ہر علاقائی مذاکرات کا ناگزیر حصہ بنا دیتی ہے۔
مصر کی کوشش ہے کہ وہ اریٹیریا اور صومالیہ دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھ کر ہارن آف افریقہ میں اپنی سفارتی پوزیشن مزید مستحکم کرے۔
Egypt hosts Somalia, Eritrea, and US advisor in Cairo for high-level Horn of Africa talks focused on Red Sea security, Somalia s sovereignty, and regional stability. pic.twitter.com/iOOlcPAAMZ
— Dalsan TV (@DalsanTv) July 20, 2026 t color="#ff0000" style="background-color: rgb(255, 255, 255);">امریکا کیوں سرگرم ہے؟قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں امریکی صدر کے سینئر مشیر برائے افریقہ مسعد بولوس کی شرکت نے ان مشاورتوں کو عالمی اہمیت دے دی۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کے لیے ہارن آف افریقہ اب بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ، علاقائی استحکام اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہم خطہ ہے۔
مسعد بولوس نے صومالیہ کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں ممالک نے ہارن آف افریقہ میں سلامتی، استحکام اور سیاسی مکالمے پر تفصیلی گفتگو کی، جبکہ اریٹیریا کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں تجارت، علاقائی اقتصادی ترقی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایتھوپیا کا بڑھتا کردار اور مصر کی نئی حکمت عملی
سیاسی و سلامتی امور کے تجزیہ کار مبارک علیو کے مطابق مصر نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ہارن آف افریقہ کے بحرانوں کو اب الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
ان کے بقول قاہرہ کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مصر اب صرف علاقائی تبدیلیوں پر ردعمل دینے کے بجائے خود نئے سکیورٹی نظام کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب یونیورسل پیس فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل ٹیگا کنگ کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہوگا جب تمام علاقائی ممالک افریقی یونین کی قیادت میں مشترکہ اور جامع مذاکراتی نظام تشکیل دیں، جو تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا احترام کرے۔
#Egypt, #Eritrea and #Somalia discuss Horn of Africa security amid ongoing regional alignment
— Addis Standard (@addisstandard) July 19, 2026
Egyptian Foreign Minister Badr Abdelatty on Sunday held separate talks with his Eritrean counterpart Osman Saleh on “enhancing the strategic partnership”, and Somali Foreign Minister… pic.twitter.com/BNxSAacMom
سوڈان بھی اہم مگر خاموش کردار
اگرچہ سوڈان ان مشاورتی اجلاسوں میں براہِ راست شریک نہیں تھا، تاہم مبصرین کے مطابق وہاں جاری خانہ جنگی بھی مصر کی سلامتی اور بحیرۂ احمر کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
سوڈان کی جغرافیائی حیثیت اسے ہارن آف افریقہ، شمال مشرقی افریقہ اور بحیرۂ احمر کے درمیان طاقت کے توازن میں ایک اہم عنصر بناتی ہے۔
کیا نیا علاقائی اتحاد وجود میں آ رہا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں کو فی الحال کسی نئے علاقائی اتحاد کی تشکیل قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم یہ ضرور واضح ہو گیا ہے کہ ہارن آف افریقہ اور بحیرۂ احمر کو اب ایک مشترکہ اسٹریٹجک خطے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں سمندری رسائی، سلامتی، تجارت، علاقائی اثرورسوخ اور عالمی طاقتوں کی رقابت ایک دوسرے سے گہری طور پر جڑ چکی ہیں۔
ان مشاورتوں کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کوششیں خطے میں تعاون کو فروغ دیتی ہیں یا پھر نئی علاقائی کشیدگی اور طاقت کی نئی دوڑ کو جنم دیتی ہیں۔







