تفصیلات کے مطابق بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جب کہ ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ انتخابات طلبہ کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کے تقریباً 18 ماہ بعد منعقد ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں دو دہائیوں پر محیط شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔

بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کے دو الگ الگ واقعات سامنے آئے ہیں، جن پر عدالتوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سزائیں سنا دیں۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق سراج گنج 4 اور جھالاکاٹھی2 کےحلقوں میں جعلی ووٹنگ کی کوشش کی گئی۔ سراج گنج میں 22 سالہ روبیل حسین نے اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد بیرونِ ملک مقیم ایک ووٹر کا ووٹ ڈالنے کی کوشش کی، جس پر انتخابی حکام نے اسے حراست میں لے لیا۔

روبیل حسین کو بعد ازاں سمری کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے دو سال قید کی سزا سنائی۔

دوسری جانب جھالاکاٹھی میں ایک 34 سالہ خاتون کو جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش پر موبائل کورٹ نے دو سال قید کی سزا سنائی، جب کہ اس پر 50 ہزار ٹکہ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔