بنگلادیشی میڈیا کے مطابق طلبہ تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کے طویل آمرانہ دور کے خاتمے اور ان کے بھارت فرار ہونے کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت نے عام انتخابات کرانے کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔

ملک بھر میں ہونے والے انتخابات مجموعی طور پر پُرامن اور شفاف رہے، جبکہ اب تک کسی بھی جانب سے دھاندلی کے الزامات سامنے نہیں آئے۔ تاہم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پابندی کے باعث انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی۔

غیر مصدقہ، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق سابق وزیرِ اعظم مرحومہ خالدہ ضیا کی جماعت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی سب سے آگے ہے۔ خالدہ ضیا کے حالیہ انتقال کے بعد پارٹی کی قیادت ان کے بیٹے طارق رحمان کر رہے ہیں۔

ابتدائی گنتی کے مطابق بی این پی 50 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی 18 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش: جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کرنے والے دو افراد کو قید کی سزا سنا دی گئی

تاہم دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی نشستوں اور پوزیشن کے بارے میں حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔

واضح رہے کہ بنگلادیش میں قومی اسمبلی کی 300 براہِ راست منتخب نشستوں میں سے حکومت بنانے کے لیے 151 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہیں، جبکہ ایک نشست پر انتخابات ملتوی کر دیے گئے