غیر ملکی میڈیا کے مطابق سنہرے بالوں والے اس سفید بھینسے کو عوام نے اس کی منفرد شکل و صورت کے باعث ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ کا نام دے رکھا تھا۔ عیدالاضحیٰ سے قبل یہ بھینسا قربانی کے لیے فروخت کیا جا چکا تھا، تاہم جیسے ہی اس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، ملک بھر میں اسے دیکھنے والوں کا رش لگ گیا۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 700 کلوگرام وزنی اس نایاب بھینسے کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دراز شہروں سے بھی آنے لگے۔ شہری اس کے سنہرے بالوں، سفید رنگ اور پُرسکون انداز کی وجہ سے اسے غیرمعمولی جانور قرار دے رہے تھے جبکہ کئی افراد اس کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بھی بناتے رہے۔

بنگلادیشی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جانور کے گرد بڑھتے ہوئے عوامی ہجوم اور سکیورٹی خدشات کے باعث حکومت نے فوری مداخلت کا فیصلہ کیا،  وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے ہدایت جاری کی کہ بھینسے کو قربانی سے بچایا جائے اور خریدار کو ادا کی گئی رقم واپس کردی جائے۔

حکومتی فیصلے کے بعد نایاب بھینسے کو ڈھاکا کے قومی چڑیا گھر منتقل کردیا گیا، جہاں اب اسے خصوصی نگرانی میں رکھا جائے گا۔ چڑیا گھر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد اس منفرد جانور کو دیکھنے میں دلچسپی ظاہر کررہی ہے، اسی لیے اس کی حفاظت کے لیے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے بھی حکومتی فیصلے پر دلچسپ تبصرے کیے ہیں۔ بعض افراد نے اس اقدام کو جانوروں کے تحفظ کے لیے مثبت قدم قرار دیا، جبکہ کئی صارفین نے مذاقاً کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ ایک بار پھر خبروں میں آگیا۔

واضح رہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بنگلادیش سمیت مختلف مسلم ممالک میں لاکھوں جانور قربانی کے لیے منڈیوں میں لائے جاتے ہیں، تاہم منفرد اور نایاب جانور اکثر عوامی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔