خبررساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سیاست دانوں، کاروباری شخصیات اور غیر ملکی سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے 67 سالہ شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت اقتدار میں آ کر ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت، مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کرے گی، جب کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور عوامی اخراجات میں اضافے کو بھی ترجیح دی جائے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ تاہم ڈھاکہ کے ماہرینِ معاشیات نے ان وعدوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے منشور کو نعروں سے بھرپور مگر تفصیلی منصوبہ بندی سے خالی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق جماعت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اتنے بڑے معاشی اہداف کے لیے وسائل کہاں سے حاصل کیے جائیں گے۔ اس کے باوجود سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جماعت کے لیے یہ منشور محض مالی ریاضی نہیں بلکہ ایک سیاسی بیانیہ ہے، جس کا مقصد خود کو ایک سنجیدہ اور قابلِ حکمرانی متبادل کے طور پر پیش کرنا ہے۔
دوسروں جانب ناقدین جماعتِ اسلامی کو ایک ایسی اسلام پسند جماعت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جو ایک نوجوان، متنوع اور جدید آبادی پر حکومت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ تاہم نیا منشور اس تصور کو چیلنج کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جماعت خود کو ایک ایسی سیاسی قوت کے طور پر پیش کر رہی ہے جو اپنی مذہبی بنیادوں اور بنگلہ دیش کے جدید مستقبل کے درمیان کسی تضاد کو تسلیم نہیں کرتی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ کچھ عرصہ پہلے تک بنگلہ دیش کے کاروباری اشرافیہ اور غیر ملکی سفارت کار یا تو جماعتِ اسلامی سے دور رہتے تھے یا اس کے ساتھ انتہائی احتیاط سے روابط رکھتے تھے، تاہم حالیہ مہینوں میں یہ رویہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ یورپی، مغربی اور حتیٰ کہ انڈین سفارت کاروں نے بھی شفیق الرحمان سے ملاقاتیں کی ہیں، ایک ایسی شخصیت جسے کچھ عرصہ قبل تک بین الاقوامی سطح پر سیاسی طور پر الگ تھلگ سمجھا جاتا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایسی جماعت کے لیے جس پر دو مرتبہ پابندی لگ چکی ہے، جن میں معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دور کی پابندیاں بھی شامل ہیں، آنے والے انتخابات ایک غیر معمولی سوال کو جنم دے رہے ہیں کہ کیا شفیق الرحمان بنگلہ دیش کے اگلے وزیر اعظم بن سکتے ہیں؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت اسلامی اور اس کی قیادت کے بارے میں بدلتا ہوا تاثر کم از کم جزوی طور پر بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کا نتیجہ ہے۔ جولائی 2024 کی عوامی بغاوت، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ اقتدار سے معزول ہوئیں، نے نہ صرف ان کی طویل حکمرانی کا خاتمہ کیا بلکہ اس سیاسی نظام کو بھی ہلا کر رکھ دیا جو دہائیوں سے عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی باہمی دشمنی پر قائم تھا۔
عوامی لیگ عملاً سیاسی میدان سے باہر ہو گئی، جب کہ بی این پی واحد بڑی جماعت رہ گئی، جس سے ایک واضح سیاسی خلا پیدا ہوا۔ ابتدا میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ طلبہ کی قیادت میں قائم نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) اس خلا کو پُر کرے گی، تاہم اس کے برعکس جماعتِ اسلامی جو برسوں سے سیاسی حاشیے پر دھکیلی جا چکی تھی، اس خلا کو پُر کرنے میں کامیاب ہوتی دکھائی دی۔
جیسے جیسے بنگلہ دیش انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے، جماعت اب ملک کی دو بڑی سیاسی قوتوں میں سے ایک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ بعض قبل از انتخابات سرویز میں جماعت کو براہِ راست بی این پی کے مدمقابل دکھایا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور پارٹی سربراہ کے دیرینہ ساتھی احسن المحبوب زبیر کے مطابق اس تبدیلی کے مرکز میں شفیق الرحمان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت کی بحالی برسوں کی سماجی خدمت، نچلی سطح پر تنظیم سازی اور ریاستی دباؤ کے باوجود سیاسی بقا کا نتیجہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمان جو ایک نرم گفتار سابق سرکاری ڈاکٹر ہیں، انہوں نے 2019 میں جماعت اسلامی کی قیادت سنبھالی اور اس وقت جماعت پر پابندی عائد تھی۔ دسمبر 2022 میں انہیں عسکریت پسندی کی حمایت کے الزام میں آدھی رات کو گرفتار کیا گیا اور 15 ماہ بعد ضمانت پر رہائی ملی۔ مارچ 2025 میں، طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد ان کا نام مقدمے کے ملزمان کی فہرست سے نکال دیا گیا۔
اس کے بعد شفیق الرحمان کی محتاط مگر جذباتی عوامی موجودگی نے غیر معمولی توجہ حاصل کی۔ گزشتہ جولائی میں ڈھاکہ کے ایک بڑے جلسے کے دوران وہ گرمی کے باعث دو مرتبہ اسٹیج پر گر پڑے، مگر ڈاکٹروں کے مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے تقریر مکمل کرنے کے لیے واپس آئے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ جب تک اللہ مجھے زندگی دے گا، میں عوام کے لیے لڑتا رہوں گا۔ اگر جماعت منتخب ہوئی تو ہم نوکر ہوں گے، مالک نہیں۔ نہ وزیروں کو پلاٹ ملیں گے، نہ ٹیکس فری گاڑیاں، نہ کرپشن ہوگی۔
ان کے حامی امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمان کو ایک قابلِ رسائی اور اخلاقی سیاست دان قرار دیتے ہیں، جو ڈرائنگ رومز کے بجائے آفت زدہ علاقوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ایک تصادم سے تھکے ہوئے ملک میں مفاہمت اور نظم و ضبط کی بات کرتے ہیں۔ پارٹی کے اندر وہ اس وقت اپنی تیسری مدت میں مضبوط اختیار رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تاہم جماعت اسلامی کے لیے اصل چیلنج اب صرف انتخابی کامیابی نہیں بلکہ اس کی ساکھ بھی ہے۔ جماعت ایک طرف اپنی اسلامی شناخت برقرار رکھنا چاہتی ہے، جب کہ دوسری طرف خود کو صاف حکمرانی، نظم و ضبط اور تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔






