جماعت اسلامی شیرپور کے امیر حافظ الرحمان نے الزام لگایا کہ بی این پی کے کارکنان نے رضا الکریم کو اینٹوں سے مار کر ہلاک کیا، اور اسے ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔ حافظ الرحمان نے انتظامیہ کو 24 گھنٹے کے اندر قاتلوں کی گرفتاری کی وارننگ دی اور خبردار کیا کہ اگر کارروائی نہ ہوئی تو جماعت اسلامی شدید احتجاج کرے گی۔
حافظ الرحمان نے مزید کہا کہ صورتحال بگڑنے کی صورت میں ہر لحاظ سے انتظامیہ جوابدہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ شیرپور سریبارڈی اپزِلا یونٹ کے تحت جاری انتخابی منشور پڑھنے کے پروگرام کے دوران پیش آیا، جس کی نگرانی اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر کر رہے تھے۔
Sherpur has once again become a battlefield for the elections in Bangladesh,Jamaat supporters are destroying the district BNP office,angry over the news of the death of the Jamaat Ameer of Sherpur s Sribardi Upazila in a BNP attack.Nuruzzaman Badal, the MP candidate for Sherpur-3 pic.twitter.com/BK5v09rLuP
— Desperate (@Desperate115132) January 28, 2026
حکام اور عینی شاہدین کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب مخالف امیدواروں کے حامیوں کے درمیان اگلی قطاروں میں بیٹھنے پر تنازع پیدا ہوا اور معمولی کشیدگی شدید جھڑپ میں بدل گئی۔
رضا الکریم شدید زخمی ہوئے اور ابتدا میں انہیں جھینائگاتی اپزِلا ہیلتھ کمپلیکس منتقل کیا گیا، بعد ازاں شیربور ڈسٹرکٹ اسپتال اور پھر میمن سنگھ میڈیکل کالج اسپتال بھیجا گیا، لیکن راستے میں ہی رات 9:30 بجے دم توڑ گئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران دونوں طرف کے کارکن ایک دوسرے کا پیچھا کرتے رہے، سینکڑوں کرسیاں اور کئی موٹر سائیکلیں توڑی گئیں، اور دونوں پارٹیوں کے 50 سے زائد کارکن زخمی ہوئے۔ شام کے وقت جھینائگاتی ٹاؤن میں تصادم کا دوسرا دور بھی ہوا جس میں مزید افراد زخمی ہوئے
جماعت اسلامی کے مقامی رہنما عبدالمنان نے الزام لگایا کہ بی این پی کے کارکنان نے ان کے حامیوں کا پیچھا کیا اور رضا الکریم کو پکڑ کر سر پر اینٹ مار کر ہلاک کیا۔ جماعت اسلامی کے امیدوار نورالزمان بدل نے اس واقعے کو سیاسی مقصد سے انجام دیا گیا قرار دیتے ہوئے غیر جانبدارانہ تفتیش اور فوری گرفتاریوں کا مطالبہ کیا۔
شیرپور ڈسٹرکٹ اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ رضا الکریم کی موت کی صحیح وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی تصدیق کی جائے گی۔ رضا الکریم فتح پور فاضل مدرسہ میں عربی کے لیکچرار اور مقامی مسجد میں امام کی خدمات انجام دے رہے تھے۔
یہ واقعہ بنگلہ دیش میں آئندہ پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں کے دوران سیاسی کشیدگی میں اضافہ کا سبب بن گیا ہے اور مقامی حلقوں میں انتخابات سے پہلے تشدد اور عدم تحفظ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ جلد از جلد تحقیقات مکمل کریں اور قاتلوں کو گرفتار کریں تاکہ آئندہ تشدد سے بچا جا سکے۔







