یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ڈھاکہ کی خصوصی عدالت نے پیر کے روز شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت اور تاحیات قید کا حکم سنایا۔
یہ فیصلہ تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں سابق وزیرِ داخلہ اسد الزماں کمال اور سابق آئی جی چودھری عبداللہ المامون کو بھی قصوروار قرار دیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شیخ حسینہ نے طلبہ تحریک کو طاقت سے کچلنے کے لیے مہلک ہتھیار استعمال کیے اور مظاہرین کے جائز مطالبات کو نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ صورتحال کو مزید خراب کرنے میں کردار ادا کیا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران 1,400 افراد ہلاک ہوئے، جس کی ذمہ داری سابق وزیراعظم پر عائد کی گئی۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے نئی دہلی سے مطالبہ کیا ہے کہ مجرمان کو پناہ دینا انصاف کی بے توقیری ہے۔انڈیا شیخ حسینہ واجد اور اسد الزماں کمال کو فوری طور پر ڈھاکہ کے حوالے کرے۔
Bangladesh has asked India to extradite ousted premier Sheikh Hasina after a court in Dhaka sentenced her to death over deadly 2024 crackdown on protests. Mohammad Kamruzzaman reports pic.twitter.com/hMGo5rpcZy
— TRT World Now (@TRTWorldNow) November 18, 2025
انڈین وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے بیان دیا کہ وہ ’شیخ حسینہ واجد کے بارے میں بنگلہ دیشی عدالت کے فیصلے سے آگاہ ہے اور اس صورتحال کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈیا پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے عوام کے بہترین مفادات کے لیے پرعزم ہے۔
وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیشی عوام کا امن، جمہوریت اور استحکام انڈیا کے لیے اہم ہیں اور اسی مقصد کے حصول کے لیے نئی دہلی تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل تعمیری رابطہ جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ شیخ حسینہ، جو گزشتہ سال اقتدار سے محروم ہوئی تھیں، اپنی انتخابی شکست کے بعد انڈیا منتقل ہوگئی تھیں۔ ان کی حالیہ سزا کے بعد ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، کیونکہ بنگلہ دیشی حکومت ان کی حوالگی پر زور دے رہی ہے۔
یاد رہے کہ یہ پیش رفت علاقائی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم اضافہ ہے، کیونکہ شیخ حسینہ کا بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نمایاں کردار رہا ہے اور دونوں پڑوسی ممالک کے تاریخی تعلقات بھی اہم ہیں۔







