ان کے ذاتی معالج اور بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن پروفیسر ڈاکٹر اے زیڈ ایم زاہد حسین کے مطابق بیگم خالدہ ضیاء آج تقریباً صبح چھ بجے وفات پا گئیں۔

انتقال کے وقت ہسپتال میں اہل خانہ اور بی این پی کی اعلیٰ قیادت موجود تھی۔ ان میں ان کے بڑے صاحبزادے اور قائم مقام بی این پی چیئرمین طارق رحمان طارق رحمان، ان کی اہلیہ ڈاکٹر زبیدہ رحمان، پوتی زائمہ رحمان، دیگر قریبی رشتہ دار اور بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر مرزا فخرالاسلام عالمگیر شامل تھے۔ ان کے علاج کی نگرانی کرنے والا میڈیکل بورڈ بھی اس موقع پر موجود تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

منگل کو ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’خالدہ ضیا نے بنگلہ دیش کی ترقی و خوشحالی کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں اور وہ پاکستان کی مخلص دوست تھیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت اور پاکستان کے عوام بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہماری دعائیں اور ہمدردیاں ان کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہیں۔  

بیگم خالدہ ضیاء کئی دہائیوں تک بنگلہ دیش بنگلہ دیش کی سیاست کی ایک نمایاں اور بااثر شخصیت رہیں۔ وہ تین مرتبہ ملک کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور مشکل اور ہنگامہ خیز ادوار میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت کرتی رہیں۔ ان کے انتقال کو بنگلہ دیش کی اپوزیشن سیاست کے ایک اہم دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات خطے بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں، خصوصاً پاکستان پاکستان میں، جہاں ان کے سیاسی کردار کو طویل عرصے سے دلچسپی سے دیکھا جاتا رہا۔

بی این پی حکام کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین سے متعلق تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

ادھر بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس پروفیسر محمد یونس نے بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ قوم ایک عظیم سرپرست سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق بیگم خالدہ ضیاء محض ایک سیاسی جماعت کی قائد نہیں تھیں بلکہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور ناقابل فراموش حصہ تھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت نے ان کی عوامی خدمات اور عوامی مقبولیت کے اعتراف میں انہیں پہلے ہی ریاست کی نہایت اہم شخصیت قرار دیا تھا۔

چیف ایڈوائزر نے کہا کہ کثیر الجماعتی جمہوریت کی بحالی، سیاسی حقوق کے تحفظ اور آمریت کے خلاف جدوجہد میں بیگم خالدہ ضیاء کا کردار ہمیشہ عزت اور احترام سے یاد رکھا جائے گا۔ ان کے بقول ان کی مضبوط قیادت نے کئی نازک ادوار میں قوم کو حوصلہ اور سمت فراہم کی۔ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود انہوں نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء کی طویل عوامی زندگی قومی مفاد اور عوام دوست طرز حکمرانی کی عکاس تھی۔

اپنے بیان میں پروفیسر یونس نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں اور انہوں نے سیاست میں قدم اپنے شوہر، سابق صدر اور آرمی چیف ضیاءالرحمان کے 1981 میں قتل کے بعد رکھا۔ ان کی قیادت نے 1980 کی دہائی کے اواخر میں جنرل ایچ ایم ارشاد کی طویل آمریت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء کی حکومت نے خواتین کے لیے مواقع میں نمایاں اضافہ کیا، خصوصاً بچیوں کے لیے مفت تعلیم اور وظائف کے اجراء کو خواتین کی تعلیم میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق وہ کبھی پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دوچار نہیں ہوئیں اور 1991 سے 2008 تک متعدد حلقوں سے کامیابی حاصل کرتی رہیں۔

چیف ایڈوائزر کے مطابق بیگم خالدہ ضیاء نے اپنے پہلے دور حکومت میں معاشی اصلاحات اور آزاد معیشت کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بعد کے برسوں میں سیاسی محاذ آرائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مبینہ فاشسٹ دور حکومت میں ایک طاقتور اپوزیشن کی علامت بن کر ابھریں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بدعنوانی کے مقدمات میں ان کی قید سیاسی انتقام کا نتیجہ تھی اور ان کے حامی آج بھی ان مقدمات کو من گھڑت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بیگم خالدہ ضیاء نے طویل عرصے تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

آخر میں پروفیسر محمد یونس نے مرحومہ کے اہل خانہ، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان سے تعزیت کا اظہار کیا اور قوم سے اپیل کی کہ اس ناقابل تلافی قومی نقصان کے موقع پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور بیگم خالدہ ضیاء کے لیے دعا کی جائے۔