بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق، سی آئی ڈی نے اس کیس میں شیخ حسینہ واجد سمیت 260 دیگر افراد کو مفرور قرار دے کر ان کے خلاف نوٹس جاری کیے ہیں۔

سی آئی ڈی کے اسپیشل سپرنٹنڈنٹ جسیم الدین خان کے دستخط سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ ڈھاکا میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ نے یہ حکم جاری کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ڈھاکا میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ نمبر 17 کے جج عارف الاسلام نے شیخ حسینہ واجد اور دیگر 260 ملزمان کو مفرور قرار دیا اور احکامات کے مطابق نوٹس انگریزی اور بنگالی زبان کے اخبارات میں شائع کرنے کا حکم دیا۔

نوٹس کی منظوری بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ نے کریمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 196 کے تحت دی، جس کے بعد سی آئی ڈی نے بغاوت کیس میں باقاعدہ تفتیش شروع کردی ہے۔

بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سی آئی ڈی نے دورانِ تفتیش آن لائن پلیٹ فارم “جوئے بنگلہ بریگیڈ” کے ذریعے ملک کے اندر اور بیرون ملک بغاوت سے متعلق سرگرمیوں کے شواہد اکٹھے کیے ہیں، جن کا مقصد حکومت کا خاتمہ تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سرورز اور سوشل میڈیا سے حاصل شدہ مواد کے فرانزک تجزیے کے بعد سی آئی ڈی نے شیخ حسینہ واجد سمیت 286 افراد کے خلاف چارج شیٹ جمع کرادی ہے۔

یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد 2024 میں طلبہ کی جانب سے ملک گیر احتجاج کے بعد ملک چھوڑ کر انڈیا منتقل ہوگئی تھیں، جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔ ان کے خلاف بنگلہ دیش میں بغاوت سمیت متعدد مقدمات درج ہیں۔